یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لیا جائے، سپریم کورٹ

لاہور میں سرکاری اراضی کی غیرقانونی لیز سے متعلق کیس میں وکلا کی جانب سے اونچی آواز میں بات کرنے پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لیا جائے، کمرہ عدالت میں وکلاء اپنی آواز دھیمی رکھا کریں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پٹرول پمپس کیلئے ایل ڈی اے اراضی کی غیر قانونی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ گلبرگ لبرٹی مارکیٹ میں ایک سائٹ 5 ہزار کرائے پر دی گئی، مصری شاہ میں ایک سائٹ 600 روپے کرائے پر تھی، سرکاری اثاثوں کو بے رحم انداز میں بانٹا گیا۔

پٹرول پمپس مالکان و دیگر درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ نیلامی میں پٹرول پمپس کی سائٹس کو پانچ سال کے لئے لیز پر دیا جا رہا ہے، سائٹس لیز پر لینے والے نے کروڑوں روپے زمین پرلگانے ہیں، پانچ سال لیز کی معیاد کم ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ لیز کی میعاد کا معاملہ حل کیا جا سکتا ہے، کیوں نا یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں؟ نیب خود دیکھ لے گا کہ اس معاملے میں کیا جرم ہوا ہے۔

وکلا کی جانب سے عدالت میں اونچی آواز میں بات کرنے پر جسٹس عظمت سعید نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لیا جائے، کمرہ عدالت میں وکلاء اپنی آواز دھیمی رکھا کریں۔

سینئر وکیل اعتزاز احسن نے جسٹس عظمت سعید سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ بھی تو لاہور سے ہی تشریف لائے ہیں۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے2003 میں کمرشل اور صنعتی سائٹس فروخت کی پالیسی بنائی تھی جو ختم کر دی گئی ہے، جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے یہ پالیسی کرایہ نہ ملنے کی وجہ سے بنائی گئی، مناسب کرایہ مل جائے تو ان سائٹس کو فروخت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ایک سائٹ کا کرایہ 18 ہزار سے بڑھ کرایک کروڑ 80 لاکھ ہو گیا ہے، نیلامی کے عمل میں حصہ لیے بغیر سائٹ لیز پر نہیں دی جا سکتی، موجودہ کرائے کے ساتھ پچھلے تین سال کے واجبات بھی دینا ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں