العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی درخواست ضمانت سماعت کے لیے منظور کرلی۔ عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

سابق وزیراعظم کی جانب سے دائر درخواست میں نیب، جج احتساب عدالت اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا کہ ڈاکٹرز کی رائے ہے نواز شریف کو متعدد جان لیوا امراض لاحق ہیں، تناؤ کی کیفیت نواز شریف کی جان کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے، شریانوں میں عارضہ ہارٹ اٹیک کا سبب بھی بن سکتا ہے، 6 ہفتے کی ضمانت کے دوران ہونیوالے ٹیسٹ بھی نواز شریف کے جان لیوا مرض کو ظاہر کر رہے ہیں، نواز شریف کا علاج بیرون ملک انہی ڈاکٹروں سے کرایا جائے جو پہلے علاج کرچکے ہیں، نوازشر یف بھی چاہتے ہیں کہ ان کاعلاج بیرون ملک انہی ڈاکٹروں سے کرایا جائے جن سے وہ مطمئن بھی ہیں۔

درخواست کیساتھ میڈیکل رپورٹس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ سوئٹزرلینڈ کے سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی رائے کو بھی منسلک کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین اور حکومتی افراد نے پروپیگنڈا کیا کہ علاج کیلئے ضمانت کی درخواست این آر او ہے اور سزا معطلی کی درخواست کو این آر او کہنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، اگر سزا معطل کی گئی تو اس سے پراسیکیوشن کے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، بیمار بیوی کو لندن چھوڑ کر آیا اور جیل میں ہی ان کے انتقال کی خبر ملی، نواز شریف کا بلڈ پریشر اور شوگر بھی ابھی تک معمول کے مطابق نہیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ڈاکٹرز کی رائے ہے نواز شریف کا جیل سے باہر ہونا بہت ضروری ہے لہذا سزا کیخلاف اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کر کے طبی بنیادوں پر ضمانت دی جائے۔ احتساب عدالت نے گزشتہ سال سابق وزیراعظم کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جس کیخلاف ان کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی استدعا کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے قبل نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد انہوں نے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے علاج کی غرض سے نواز شریف کی سزا 6 ہفتوں کیلئے معطل کی تھی اور بعدازاں اعلیٰ عدالت نے اس میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد انہیں واپس کوٹ لکھپت جیل جانا پڑا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں