منی لانڈرنگ کیس: نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے میگا منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد نیب کی ٹیم نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا۔ انہیں نیب راولپنڈی آفس کے سیل نمبر دو میں رکھا جائے گا۔

نیب کو گرفتاری سے پہلے آصف علی زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ زرداری کو گلے لگایا اور پیار کیا۔ سابق صدر کی نیب راولپنڈی منتقلی کے بعد نیب نے پمز ہسپتال سے ایمبولینس مانگ لی ہے، ایمبولینس زرداری کی نیب لاک اپ میں رکھنے کے پیش نظر مانگی گئی۔

ذرائع کے مطابق جب تک زرداری نیب راولپنڈی /اسلام آباد بیورو میں رہیں گے، سرکاری ایمبولینس بھی وہیں موجود رہے گی، سرکاری ایمبولینس سابق صدر کو کسی بھی فوری طبی مدد فراہم کرنے کے لیے رکھی گئی ہے۔

زرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کو نیب راولپنڈی میں منتقل کیے جانے کے بعد نیب راولپنڈی آفس کے باہر رینجر تعینات کے ساتھ سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف نیب کی طرف سے آصف علی زرداری کو کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کا کل احتساب عدالت سے 15 روز کا ریمانڈ لینے کی استدعا کی جائے گی۔

اس سے قبل عدالت نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ جس کے بعد دونوں کو گرفتار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی نے میگا منی لانڈرنگ کیس کا فیصلہ سنایا۔ نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل میں کہا صرف 20 منٹ دلائل دوں گا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ تو دلائل دے چکے، یہ ضمانت ہے، سزا کیخلاف اپیل نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ کیس کی ایف آئی آر میں 29 اکاؤنٹس ٹریس ہوئے، میگا منی لانڈرنگ کیس میں ساڑھے 4 ارب کی ٹرانزیکشن ہوئی، اے ون انٹرنیشنل، عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں کی ٹرانزیکشن ہوئی، اکاؤنٹس کیساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی، یہ 29 میں سے صرف ایک اکاؤنٹ کی تفصیل ہے، دیگر 28 اکاؤنٹس کی تفتیش جاری ہے، آصف زرداری کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں